Ads

ca-app-pub-5276613537702019/9440371124

Holy prophet

د، حضرت عیسی علیہ السلام کا ظہور اور اس کے بعد کا منظر نامہ


درجال کی آمد ایک اہم موضوع ہے جس پر بہت سے مذہبی اور علماء کی مکمل گفتگو ہوتی ہے۔ اسے مختلف اطلاقات میں حاصل کیا جاتا ہے، مگر اس موضوع پر مسلمانوں کی رائے میں اس کا اہمیتی کردار ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا ظہور اور درجال کی خاتمہ کے حوالے سے مختلف اندازوں میں تبادلہ خیال ہوتا رہا ہے۔ 


پہلے آئیں، درجال کی آمد کی بات کریں۔ درجال ایک مخلوط مذہبی فرض ہے جو اسلامی روایات میں آیا ہے۔ اس کے مطابق، درجال ایک زمانے میں آئے گا جب دنیا میں فساد اور ظلم بھرا ہو گا۔ وہ ایک فرعونی شخصیت ہوگا جس کے پاس معجزاتی قوت ہوگی، جو لوگوں کو دھوکے میں ڈالے گا اور ان کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے آمد کی خبریں مختلف دینوں اور مذاہب میں موجود ہیں، لیکن اس کی خاتمہ کی تفصیلات مختلف ہوتی ہیں۔ 


اب، حضرت عیسی علیہ السلام کا ظہور اور ان کا درجال کے خاتمہ کرنے کا بیان کرتے ہیں۔ اسلامی روایات کے مطابق، حضرت عیسی علیہ السلام آخری وقت میں دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور ان کا ظہور امن اور عدل کے لئے ہوگا۔ ان کا اہم کردار درجال کے خاتمہ میں ہوگا۔ ان کی آمد کے بعد، وہ درجال کو اپنی قوت اور معجزات سے شکست دیں گے اور دنیا کو امن و امان کی راہ پر لے جائیں گے۔ 


درجال کے خاتمہ کے بعد، اسلامی روایات میں مختلف تصورات پیش کیے گئے ہیں۔ بعض لوگ مانتے ہیں کہ اس کے بعد دنیا میں عدل و انصاف کی ریاست قائم ہو جائے گی اور دنیا ختم ہو جائے گی، جبکہ دوسرے تصور یہ ہے کہ حیات کا عالم نئی زندگی کی شروعات ہوگی اور عدلیہ اور انصاف کی فاطمہ قائم ہو جائے گی۔ 


اختتامی بات یہ ہے کہ درجال کی آمد، حضرت عیسی علیہ السلام کا ظہور اور ان کا خاتمہ ایک اہم موضوع ہیں جو دینی اور علمی تحقیقات کا مضمون رہے گا۔ اس کے بعد کی دنیا کی حالت کا تصور کرنا بھی اہم ہے جو مختلف مذاہب اور علماء کے درمیان مختلفیتوں کا باعث بنتا ہے

۔درجال کے خاتمہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور کے بعد، مختلف مذاہب اور علماء کی مختلف تصورات ہیں۔ کچھ لوگ مانتے ہیں کہ عدل و انصاف کی فاطمہ قائم ہو جائے گی اور دنیا میں امن و امان کی ریاست قائم ہو جائے گی۔ دوسرے تصور کے مطابق، نئی زندگی کی شروعات ہوگی اور ایک نئی انسانیت کا دور آغاز ہوگا۔ 


مزید، بعض لوگ معتقد ہیں کہ اس کے بعد دنیا میں ایک عالمی حکومت قائم ہوگی جس میں تمام لوگ ایک ہی راہ پر چلیں گے اور امن و امان حاصل ہوگا۔ دوسری جانب، بعض لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس کے بعد دنیا میں مذاہبی اختلافات ختم ہو جائیں گے اور تمام لوگ ایک ہی مذہب کو قبول کریں گے۔ 


ان تصورات کے علاوہ، بعض لوگ معتقد ہیں کہ انتہائی فساد اور ظلم کے بعد ایک نئی ابتداء ہوگی اور انسانیت کا ایک نیا دور آغاز ہوگا۔ اس دور میں عدل و انصاف حاکم ہوگا اور ہر شخص کو انصاف دلایا جائے گا۔ 


یہاں تک، مختلف مذاہب رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ فِيهِ"۔ یعنی "میری اس مسجد میں ایک نماز بیت المقدس میں پڑھی گئی چار نمازوں کے برابر ہے۔"


یہ حدیث نہ صرف مسجد اقصی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اسی طرح مسلمانوں کی دلچسپی کو بھی بیان کرتی ہے۔ اس حدیث مبارک کا مطلب ہے کہ مسجد اقصی کی عظمت اور اہمیت مسلمانوں کے دلوں میں مضبوطی سے جگہ بنائی گئی ہے۔ اس کی فضیلت کو سمجھنا اور اسے حفاظت کرنا ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔


**مسجد اقصی کی اہمیت:**


1. **اسلامی تاریخ کا حصہ:** مسجد اقصی اسلامی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ اسی مقام پر رسول اللہ ﷺ کی معراج کی روایت ہے جو ان کے معجزات میں سے ایک ہے۔


2. **اقصی کی اہمیت کا تعلق شریعت سے:** مسجد اقصی کی اہمیت اسلامی شریعت میں بھی واضح ہے۔ اس مسجد میں نماز پڑھنے کا اجر بہت زیادہ ہے اور یہاں کی ایک نماز دیگر مساجد میں پڑھی گئی چار نمازوں کے برابر ہے۔


3. **مسلمانوں

Post a Comment

0 Comments